14 اکتوبر 2011 - 20:30

سرت شہر میں انقلابیوں کے داخلے کو ایک ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس شہر میں جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ملنے والی رپورٹوں کے مطابق لیبیا کے انقلابیوں اور قذافی کے حامی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں یہ شہر ایک ویرانے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ دریں اثناء اس شہر میں قذافی کے حامی فوجیوں کی جانب سے عام شہریوں کا قتل عام جاری ہے ۔

ابنا: ادھر بعض رپورٹوں کے مطابق لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے مختلف علاقوں میں پراکندہ طور پر جھڑپیں ہورہی ہیں۔ ان جھڑپوں میں تیس سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ اس کے باوجود لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت ابھی تک انقلابیوں کے قبضے میں ہے۔ البتہ ناقابل انکار بات یہ ہے کہ طرابلس میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہونا لیبیا کے انقلابیوں کے لۓ خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔ خاص کر اس بات کے پیش نظر کہ سرت سمیت مختلف شہروں پر انقلابیوں کے حملوں کے آغاز میں قذافی کے حامی کمزور تھے اور ایسا لگتا ہے کہ اب وہ زیادہ مزاحمت کررہے ہیں۔ جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بعض طاقتیں اس جنگ کو طویل اور تھکادینے والی جنگ بنا دینا چاہتی ہیں۔ نیٹو کے رکن ممالک چونکہ لیبیا کے سیاسی اور اقتصادی میدان میں حصہ لینا چاہتے ہیں اس لۓ یہ بعید نہیں ہے کہ وہ لیبیا میں جنگ کو طویل کر کے حالات کو اپنے مفاد میں موڑنا چاہتے ہیں۔ نیٹو کے رکن ممالک نے اس وقت لیبیا میں یہ پالیسی اختیار کی ہے کہ وہ انقلابیوں کی بھی مدد کررہے ہیں اور قذافی کے حامیوں کی بھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ متحارب فریقین کو اسلحہ فروخت کررہے ہیں۔ اس طرح وہ لیبیا میں جنگ کا توازن برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یورپ یہ ہرگز نہیں چاہتا ہے کہ لیبیا کی جنگ فوری طور پر اور نیٹو کی مداخلت کے بغیر اپنے انجام کو پہنچے ۔ لیبیا میں جنگ جس قدر زیادہ طویل ہوگی اسی قدر نیٹو خاص کر لیبیا کے تیل اور گیس کے میدان میں سرگرمی دکھانے کے لۓ ہاتھ پیر مارنے والے یورپی ممالک کو زیادہ کارکردگي کا موقع ملے گا۔ اسی نکتے کے پیش نظر یہ بات مسلم ہے کہ نیٹو نے لیبیا میں ایک سیاسی کھیل شروع کردیا ہے۔ ایک جانب وہ انقلابیوں کی حمایت کررہی ہے اور ان کے ساتھ تعاون بھی کررہی ہے اور دوسری جانب براہ راست یا بالواسطہ طور پر وہ قذافی کے فوجیوں کو بھی مسلح کررہی ہے ۔ قذافی ابھی تک لیبیا میں موجود ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ بعض یورپی ممالک کےساتھ رابطے میں ہے ۔ اس جگہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ دو ہفتے قبل انقلابیوں کے مکمل محاصرے میں آجانے والے قذافی کے فوجیوں نے اچانک اب کس طرح اس قدر طاقت حاصل کر لی ہے کہ انہوں نے نہ صرف ایک ماہ تک سرت شہر میں مزاحمت کی ہے بلکہ طرابلس شہر میں بھی محدود پیمانے پر ہی سہی از سر نو جنگ کا آغاز کردیا ہے؟ کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ان کو لیبیا کے باہر سے حمایت حاصل ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب نیٹو کئي مہینوں سے عام شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے بہانے اس ملک کے حالات پر اثر انداز ہورہا ہے۔ بعض سیاسی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ لیبیا میں جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے کہ اگر سرت اور بنی ولید شہروں میں قذافی کے حامی فوجیوں کا کام تمام کرنے کے لۓ کوئي فوری اقدام نہ کیا گیا تو اس صورت میں لیبیا نیٹو کے مقاصد کی بھینٹ چڑھ جاۓ گا۔ گزشتہ ہفتے سرت شہر میں ہونے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں دسیوں انقلابی جاں بحق اور زخمی ہوگۓ تھے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو لیبیا میں اقتدار میں سے اپنے اپنے حصے کے حصول کی کوشش اور قبائلی اختلافات کے باعث انقلابی کمزور پڑ جائيں گے اور نیٹو کو اپنی من مانی کرنے کا موقع مل جاۓ گا اور یہ چيز لیبیا کے انقلاب کے لۓ ایک مصیبت اور وبال سے کم نہیں ہوگی۔.......... /169